اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کا پانچواں چار روزہ اجلاس ـ 11 ستمبر 2011 کو شروع ہوا تھا ـ کل 14 ستمبر کو اختتام پذیر ہوا۔اجلاس کے آخر میں اختتامی اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں امت اسلامی کے تمام افراد کی حمایت اور امت اسلامی کی وحدت و یکجہتی پر زور دیتے ہوئے پوری دنیا کے اہل تشیع کے مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ بیان کا مکمل متن:
بسم الله الرحمن الرحيمالحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام علي سيدنا ونبينا محمد وعلي اهل بيته الطيبين الطاهرين وصحبه المنتجبين
حضرت احدیت سے مدد کی درخواست کرتے ہوئے بقیۃاللہ الاعظم امام زمانہ (ع) کے سائے میں، عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی جنرل اسمبلی کا پانچواں بیت الاقوامی اجلاس 11 ستمبر سے 14 ستمبر تک تہران میں منعقد ہوا جس میں جنرل اسمبلی کے 600 سے زائد اراکین سمیت عالم تشیع کے علماء، دانشوروں اور مفکرین نے شرکت کی۔اس باشکوہ اجلاس کا آغاز حضرت آیت اللہ العظمی امام سید روح اللہ الموسوی الخمینی رحمۃاللہ علیہ کو خراج عقیدت پیش کرکے ہوا اور اجلاس کے شرکاء نے اجلاس کے تیسرے روز مشہد مقدس مشرف ہوکر ثامن الحجج حضرت علی بن موسی الرضا علیہ آلاف التحیۃ و الثناء کے حرم مطہر کے سائے میں ولی امر مسلمین جہان حضرت آیت اللہ العظمی سید علی الحسینی الخامنہ ای کے ساتھ ملاقات کی اور ان کے بیانات سے مستفیض ہوئے۔ نیز اس عظیم اجتماع کے شرکاء نے صدر اسلامی جمہوریہ ایران سے ملاقات کی اور ان کے خطاب کو مد نظر رکھ کر بعض شرکاء نے اظہار خیال بھی کیا اور چار روز مسلسل اجلاسوں میں عالم اسلام بالخصوص شیعیان اہل بیت (ع) کے مسائل اور مشکلات کا جائزہ لیا گیا۔اس بین الاقوامی اجلاس کے اختتام پر، پانچویں اجلاس کے اراکین نے اپنے بیان میں امت اسلامی کے تمام افراد کی حمایت اور امت اسلامی کی وحدت نیز عالمی اسلام کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے درج ذیل نکات پر تاکید کرتے ہیں: 1۔ آج اسلامی دنیا پر حاوی ہونے والی اسلامی بیداری کی لہر ایران کی پر شکوہ اسلامی تحریک کا تسلسل، امام خمینی (رح) کی تعلیمات کا نتیجہ اور لبنان اور فلسطین کی اسلام مزاحمت تحریک کی عظیم کامیابیوں کا نتیجہ ہے چنانچہ جنرل اسمبلی کے اراکین تیونس، مصر، یمن اور لیبیا کے عوام کو ـ استبداد اور آمریت کے خلاف ان کی عظیم کامیابی پر ـ مبارکباد پیش کرتے ہوئے دشمن کے ہاتھوں ان مظلوم اقوام کی مشقتوں اور زحمتوں کے ہائی جیک ہونے اور شہیدوں کے خون کی پامالی، سے خبردار کرتے ہیں۔ 2۔ اجلاس کے شرکاء بحرین کے مظلوم عوام کی اسلامی تحریک کی مکمل حمایت اور ان کے جائز مطالبات کی ہمہ جہت حمایت کے ساتھ ساتھ، بحرین کے علماء ـ خاص طور پر حضرت آیت اللہ شیخ عیسی قاسم ـ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں، جنہوں نے بحرینی عوام کی تحریک کو پر امن رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے؛ نیز اسیر علماء، جامعات کے اساتذہ اور طلبہ، ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس، نوجوانوں اور بے گناہ شہریوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں جو کئی مہینوں سے آل خلیفہ کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل ہیں اور بحرین کے عوام پر ہونے والے ظلم و ستم کا بائیکاٹ کرنے والے ابلاغی ذرائع اور عالمی استکبار سے وابستہ اداروں اور تنظیموں کے امتیازی رویوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ 3۔ پانچویں اجلاس کے اراکین و شرکاء مغرب کی گود میں پروان چڑھنے والے دہشت گرد ٹولوں کے ہاتھوں عراق اور افغانستان کے مظلوم عوام کے قتل عام سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے ان وحشیانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نیز دنیا کے حریت پسند انسانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تمامتر ممکنہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ٹولوں کی وحشیانہ کاروائیوں کے ہاتھوں علاقے کے ان مظلوم عوام کے قتل عام کا سد باب کریں۔4۔ جس طرح کہ منگل کے روز رہبر معظم نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا، اجلاس کے شرکاء اسلامی وحدت، مذہبی اختلافات اور فرقہ وارانہ انتشار و افتراق کا راستہ روکنے کو اہل بیت عصمت و طہارت کی بنیادی تعلیمات کا جزء قرار دیتے ہیں اور انہیں یقین کامل ہے کہ اس اجلاس جیسے اجتماعات وحدت اسلامی کی تقویت پر منتج ہوتے ہیں ابنائے امت کے اتحاد کے لئے ماحول تیار کرتے ہیں۔5۔ بڑے اور گنجان آباد اسلامی ملک پاکستان میں بدامنی کا باعث بننے والے انتہا پسند عناصر اور عالمی طاقتوں کے دھوکے میں آنے والے گروپوں کے ہاتھوں پاکستان کے مظلوم عوام ـ بالخصوص اس ملک کے شیعیان اہل بیت (ع) ـ کے قتل عام، کی مذمت کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ جرائم پیشہ دہشت گرد ٹولے امریکی فورسز ـ جو حتی اس ملک کے نہتے عوام کو بغیر پائلٹ کے ہوائی جہازوں (ڈرونز) کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں ـ کے قریبی تعاون کے بغیر دہشت گردانہ کاروائیاں نہیں کرسکتے؛ چنانچہ مسلمانوں اور خاص طور پر شیعیان اہل بیت (ع) سے اپیل کرتے ہیں کہ پاکستان کے مظلوم عوام کی مظلومیت کی صدا دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچائیں اور اس ملک میں اندھے تشدد کا سد باب کریں۔ 6۔ اس اجلاس کے شرکاء وسطی ایشیا کے مسلمانوں کے جائز دینی حقوق اور وسطی ایشیا کے ممالک کے عوامی کو دینی آزادیاں دینے پر تاکید کرتے ہیں اور آذربائیجان اور تاجیکستان میں دینی و مذہبی مناسک و مراسمات نیز دینی شعائر کے احیاء کے راستے میں کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں پر تنقید کرتے ہوئے ان ممالک کی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ عوام کے حقوق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پیروان اہل بیت (ع) کی دینی اور مذہبی آزادیاں سلب کرنے سے باز رہیں۔ 7۔ جنرل اسمبلی کے اراکین کو یقین کامل ہے کہ دنیا کے مسلمانوں اور شیعیان اہل بیت (ع) پر روا رکھے جانے والے مظالم اسلام فوبیا، شیعہ فوبیا اور ایران فوبیا جیسی مذموم پالیسیوں کا نتیجہ ہیں جو عالم مغرب میں رائج ہیں اور پوری دنیا میں مسلمانوں کے لئے بے شمار مسائل و مشکلات کا باعث بنی ہیں؛ چنانچہ وہ عالمانہ اور دانشمندانہ دفاع کے اصولوں پر چل کر مسلمانوں اور اہل بیت رسول (ص) کے پیرکاروں کو مظلومیت کی موجودہ کیفیت سے نکالنے پر تاکید کرتے ہیں۔8۔ اجلاس کے شرکاء لبنان کی اسلامی مزاحمت تحریک اور حزب اللہ کی فیصلہ کن حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ اسلامی مزاحمت تحریک غاصب صہیونی ریاست کے خلاف اگلے محاذ (فرنٹ لائن) کی حیثیت سے عالمی استکبار کے جبر کے مد مقابل کھڑی ہے اور اسی وجہ سے مغرب کے ہاتھوں میں کھیلنے والے کٹھ پتلیوں کے حملوں کا نشانہ بن رہی ہے جو ایک نام نہاد اور غیرقانونی نمائشی عدالت میں اسلامی مزاحمت تحریک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔9۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے اراکین موجودہ حساس حالات میں اہل بیت (ع) کی خدمت اور اسلامی امت کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے حوالے امام موسی صدر کے قائدانہ کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے معمر قذافی کی آمریت کے زوال کے بعد ان کی رہائی کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں اور لیبیا کی عبوری کونسل اور اس ملک کے انقلابی قوتوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ ایک بنیادی مسئلہ ہے اور اس اجلاس کے شرکاء پر زور انداز سے اس کے خواہاں ہیں چنانچہ اس حوالے سے انہیں سنجیدہ اور حقیقی اہتمام کرنا چاہئے۔10۔ اجلاس کے شرکاء عقلانیت سمجھداری، دانشمندی، اعتدال اور ادیان کے درمیان پرامن بقائے باہمی اور مذاہب کی وحدت و تقرین کو آج کے معاشروں کی اہم ترین ضروریات سمجھتے ہوئے انتہاپسندانہ، فتنہ انگیزانہ اور فرقہ وارانہ اقدامات کو رسول اللہ اور اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکامات کے منافی سمجھتے ہوئے قرآنی تلعمات کے منافی سمجھتے ہیں۔11۔ اہل بیت عصمت و طہارت کے تمام پیروکار ـ جو اپنے آپ کو باب مدینۃالعلم امیرالمؤمنین علی علیہ و آلہ و سلم کے شیعہ سمجھتے ہیں ـ خواتین، نوجوانوں اور بچوں کی دانش افزائی اور ان کی علمی سطح بلند کرنے، قرآن سیکھنے اور سکھانے، قرآن کی تفسیر اور قرآنی علوم کے خاص اہتمام، اخلاق اور کردار میں سنت کی تعلیمات کو جلوہ گر کرنے، تشیع کی علمی اور ثقافتی میراث سے استفادہ کرنے اور دنیا کے علمی اور تحقیقی مراکز میں مکتب اہل بیت (ع) کو عالمانہ اور اکیڈمک و جامعاتی انداز سے متعارف کرانے کو آج کی آج کے انسانی معاشروں کی اہم ترین ضروریات سمجھتے ہیں۔12۔ اس اجلاس کے شرکاء شیعہ معاشروں میں ایمان کی تعمیق و گہرائی، اسلام کے نورانی احکام کی عملی پابندی اور دینی اقدار کے احترام کے تحفظ کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے شیعیان اہل بیت (ع) کی صفوں می باہمی اتحاد و یکجہتی اور پیروان اہل بیت (ع) کے درمیان اختلافات سے اجتناب پر دوچند تاکید کرتے ہیں۔ 13۔ اجلاس کے شرکاء نے شیعہ مالداروں، دولتمندوں، مخیرین اور بااثر شخصیات کو خیراتی کاموں اور اپنے ہم عقیدہ غرباء کی امداد کی دعوت دی ہے اور انہیں یقین ہے کہ قدرتی آفات کی وجہ سے مصیب زدہ انسانوں، صومالیہ کے قحط زدگان اور عرب ممالک میں انقلابات کی بنا پر مسائل و مصائب کا شکار ہونے والے عوام کی مدد آج کی ترجیحات اور ضروریات میں سے ہے۔ 14۔ آخر میں، ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہم "عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی جنرل اسمبلی کو توفق عطا فرمائی تا کہ وہ اپنا عالمی اجلاس منعقد کرکے شیعیان عالم کی حالت بہتر بنانے کی راہ میں قدم اٹھا سکیں اور ہمیں امید ہے کہ ہماری یہ کوششیں قطب عالم امکان حضرت ولی عصر (عج) کی خوشنودی کا باعث بنیں۔نیز ضروری ہے کہ انقلاب اسلامی کے رہبر معظم ـ جنہوں نے اس اسمبلی کو مسلسل اپنے لطف اور توجہ سے نوازا ہے اور اس بار بھی بہترین انداز سے، ہمارے مستقبل کے پروگراموں کی سلسلے میں ہدایات دے چکے ہیں ـ کا شکریہ ادا کریں۔آستان قدس رضوی کے متولی اور کارکنوں کی جانب سے مخلصانہ میزبانی کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں اور اجلاس کے بہترین انعقاد پر عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے محترم سیکریٹری جنرل، اعلی اہلکاروں اور کارکنوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔امید ہے کہ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی چھٹی جنرل اسمبلی چار سال بعد ایسے حال میں منعقد ہو کہ پوری دنیا میں پیروان اہل بیت (ع) کی سماجی، معاشی، سیاسی، علمی اور سائنسی اور قانونی (لیگل) صورت حال آج کی نسبت بہت بہتر ہو اور ان کو درپیش آفاق وسیع تر اور روشن تر ہوں اور ان کو درپیش راستے زیادہ واضح اور وسیع ہوں۔
وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ (سورہ توبہ آیت 105)(اور ان سے کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مؤمنین بہت جلد تمہارے اعمال دیکھ لیں گے)۔
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی جنرل اسمبلی کا پانچوان اجلاسشهريور 1390 ـ شوال المكرم 1423 ـ سپتامبر 2011